?? ??? ??? ???

غزل – ٩

حکمت و عمل و فن کی بیٹھی دھاک ہے ہی
ہم جنوں جسے کہتے ہیں وہ بے باک ہے ہی

شرمندہ کرا رکھا ہے گناہ کرا کرا
میدان حشر ازل سے خوفناک ہے ہی

لگاتا نہیں ہے درزی ہی تکمہ قمیص کو
سمجھتا ہے عاشق کا گریباں چاک ہے ہی

واعظ تیری توبہ استغفراللہ نعوذو
تو عشق نہیں جانتا تو تو پاک ہی

ماتھے پہ تیرے چاند آ کے ٹھہر گیا ہے
خنجر ابرو تیر آنکھیں ستواں ناک ہے ہی

کھا کھا کے چوٹ مڑ مڑ کے نام ہی لوں گا
گستاخ میں اتنا ہوں کہ منہ میں خاک ہے ہی

دنیا میں دل کے بھید ہیں افسون و درد بھی
ورنہ مٹّی پانی اور خس و خاشاک ہے ہی

ظالم کا تھا بے موقعہ  “خواجہ“  حال پوچھنا
تمہارا بھی یہ جواب ٹھیک ٹھاک ہے ہی۔

غزل -٨

بچّہ ہوتا میں بھی کوئی لے کے پتھّر دیکھتا
آس پاس سودا سمایا ہوا سر دیکھتا


پریت وعدہ پھر وفائیں بعد کی باتیں رہیں

تو ہے اوروں کی طرح پہلے میرا گھر دیکھتا


دیکھ لینا دھونس دھمکی اور دھکّوں کا اثر

گھوم گھوم گھوم گھوم پھر مکرّر دیکھتا


آدمی کے بس سے نکلے چلتا ہے تقدیر کا

ہے فلک ہوتا ہوا یہ ظلم جس پر دیکھتا


چوری چوری چپکے چپکے جاکے کیں جانیں جمع

نوچ لیتا جو بھی عزرائیل کے پر دیکھتا


تیرا مجھ کو تاڑلینا ہی تھا رسوائی میری

خوش رہے گا جن بھی پھیلایا ہوا شر دیکھتا


دھیرے دھیرے آ مجلس میں کیا ایسے سلام

کاش منظر ویسا کوئی خواجہ’ بن کر دیکھتا۔

اُردو کا دُکھڑا

اردو کو کیوں وہ عزّت اور شرف میسّر نہیں ہےجو اسکا حق ہے اسکو سمجھنے کے لئے ہم کو ایک جائزہ لینا پڑے گا۔
آریاؤں کی آمد کے ساتھ سنسکرت زبان جنوبی ہند پہنچی۔ آریا متعصب تھے اور وہ مقامی آبادی کو کمتر تصّور کرتے تھے اسوجہ سے انہوں نے سنسکرت کو اپنے تک محدود رکھا۔ اس تعصّب نے اس زبان کو یہ تحفہ دیا کہ جب یہ زبان عام ہونے لگی تو مقامی زبان کے ساتھ غلط (١) ہو چکی تھی یعنی پیدائیش سے پہلے مر چُکی تھی۔ اگر ان لوگوں نے اس زبان کی ترویج کی ہوتی تو یہی اس پورے خطّے کی عظیم زبان رہتی۔ پھر برج بھاشا شروع ہوئی اور گیارھویں صدی عیسوی سے اُردو نے پنپنا شروع کیا گوکہ اسکو نام بعد میں مغلوں کے دور میں ملا۔ سرکاری زبان ہندوستان میں فارسی تھی جبکہ اکثر ہندوستانی سلاطین اور مغل بادشاہ جہانگیر تک خود تُرکی بولتے تھے۔ فارسی آسان اور بین الاقوامی طور پر ایشیا میں سمجھے جانے والی زبان ہونے کی وجہ سے پہلا درجہ رکھتی تھی۔ عوامی بولی ہندوستانی یا اُردو ہی رہی تھی۔ انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے اپنی زبان کو زیادہ مقدّم رکھا اور ترقّی کے لئے اور انگریزوں کو جواب دینے کے لئے سب کو انگریزی سے وابسطہ ہونا پڑا جو ایک اہم ضرورت تھی۔ اس سے یہاں کے لوگ احساس کمتری کا شکار ہو گئے اور بعض تو اپنی زبان، ادب اور طرز زندگی کا بھی خود ہی مذاق اُڑانے لگے۔ وہ اثر آزادی کے بعد بھی قائم رہا اور اسی طرز کوبعد میں بھی برقرار رکھا گیا۔ ظاہری بات ہے کہ ایک قوم کے زبان و ادب کی تقلید کرنے والا ضرور اس کا اثر لیتا ہے۔ اس اثر نے یہاں تک لوگوں کے ذہن قابو میں کر لئے ہیں کہ لباس کی تبدیلی کے بعد مذہبی اقدار بھی اسکی گرفت میں آگئے۔ لوگ اپنی ثقافت کو بھی کم تری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کا تماشہ خود انگریز کررہے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ کس طرح اُن کے جیسے لنگوٹ پہن کو یہاں کے لوگ ناچتے ہوئے ایسا گانا گاتے ہیں کہ جس میں انگریزی کے الفاظ مقامی زبان کے ان الفاظ سے زیادہ ہیں جو صرف جملے ملانے کے کام آتے ہیں۔  اردو ادب اور زبان کی ترقّی وہ لوگ کیسے کر سکتے ہیں جنہوں نے انگریزی طرز پر زندگی گُزاری ہو، انکے جیسا تمام عمر لباس پہنا ہو اور اپنے معلوم لہجے میں پرائی زبان بولتا آئے ہوں ۔ اسطرح ان نیم ہم وطنوں کو نہ تو اُنکی زبان درست بولنا آتی ہے اور نہ اپنی، نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے۔
اردو، ہندوستانی اور ہندی بنیادی طور پر ایک ہی زبان کے مختلف نام ہیں۔ جسکو تین چیزوں نے ایک دوسرے سے جُدا کی ہوئی ہے۔
١- ہندی زبان کو زیادہ سے زیادہ سنسکرت اور اُردو کو فارسی سے جوڑنے کی کوشش۔
٢- ہندی زبان کو دیوناگری اور اردو کو عربی رسم الخط میں لکھنا۔
٣- اردو کو مسلمانوں اور ہندی کو ہندوؤں کی زبان کا نام دینا۔
                    اُردو دنیا کی کسی بھی مشہور زبان کے مقابلے کی زبان ہے بلکہ کئی زبانوں سے بہتر اور با ترتیب ہے۔ انگریزی کے مقابلے میں اس کے اصول باقاعدہ طور پر وضع ہیں اور ان میں کوئی پیچیدگی بھی نہیں ہے۔ انگریزی انگریزوں، ساکسون، یونانی، اور لاطینی کا آمیزہ ہے جن میں قواعد کے اُصول سب کے الگ الگ ہیں جن کے علاوہ اس میں الفاظ کی بناوٹ کے خلاف مختلف طرز اپنائے گئے ہیں (جیسے الفاظ جنکو پُٹ اور بٹ پڑھا جاتا ہے) جو زبان کو مزید اُلجھا دیتے ہیں۔
اُردو کی ترویج کے ساتھ تجربی علم کو اگر اُردو میں ڈھالا جائے تو اس کے دو فائدے ہوں گے۔
١- ایک بڑے عرصے تک غیر زبان میں سیکھا جانے والا علم کم وقت میں حاصل ہو جائے گا۔
٢- سیکھنے والا اپنی زبان میں علم سیکھنے کی وجہ سے اس سے صحیح معنوں میں خبردار ہو جائے گا اور اس کا درست معنوں میں ماہر ہو جائے گا۔ یہی ہمارے یہاں تقریبا“ ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے پیشہ وروں کا حال ہے کہ اپنے فن کے میدان میں کورے ہوتے ہیں اور جب وہ مہارت حاصل کرتے ہیں تو بوڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ باہر ملکوں سے ترقّی کیلئے کس طرح رابطہ رکھا جائے تو اسکا یہی حل ہے کہ جس ملک سے جو لوگ وابسطہ ہوں یا اس سے مزید علم حاصل کرنے جا رہے ہوں وہاں کی زبان ایک مختصر عرصے میں سیکھ سکتے ہیں بجائے اس کے کہ تمام عمر اس علم کو انکی زبان میں جپتے رہیں۔  یہ نکتہ سراسر غلط ہے کہ ایک ملک کو ترقّی دینے کا واحد ذریعہ جان کر پوری نسلوں پر ایک غیر ملک کی زبان کو تھوپ دیا جائے۔ اردو سے وابسطہ لوگ تجربی علم میں پُرزوں اور مختلف اجزاء کے نام سنسکرت سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ سنسکرت ایک زندہ زبان نہیں ہے اور اسکا علم عام نہیں ہے مگر اسمیں الفاظ کا ذخیرہ موجود ہے۔ عربی رسم الخط کے ساتھ ساتھ دیوناگری کو بھی زندہ رکھا جانا چاہئے جو کہ اس خطّے کا تاریخی ورثہ ہے۔ غیر ملکیوں کو اردو سے آشنا کرنے اور اسکی تعلیم کے لئے رومی حروف بھی مرتّب کئے جا سکتے ہیں۔
(١)- آمیزہ ، آپس میں مل جانا

غزل – ٧

دل کا اک شور اصل راز ہے کہانی کا
 کوئی رونے کو نہیں رونا ناتوانی کا

 
مرد نامرد اور عورتیں صفوں میں‌ ہوں
 پھر تو اللہ ہی حافظ ہے راجدھانی کا

کوئی زاھد کے دل میں جھانک کے دیکھ ہی لے
 
تماشہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی کا

ہوا ہے باغ میں سبزہ و بہار سبب
تیری گرانی کا یا میری ارزانی کا

یہ پھول سرو سمن مجھ سے ذکر کرتا ہے
زلف کے لہرانے اور پریشانی کا

 

اُٹھاؤ لطف ‘خواجہ’ جو اُٹھا بن سارا
چہکتی چڑیوں رنگوں کی فراوانی کا۔

غزل – ٦

 فصلِ گُل ہے بھگوان کا ہی کرتا دھرتا

نہ ہوتا یاں نشے میں تیرا ہی دم بھرتا 

 

راس آتا نہیں کبھی شِکرے کو مردہ

دُکھاتا پیٹ اگر اس کے حلق سے اترتا

 

شکایت باغ کو صبح اس زلف سے ہے

کھڑے ہوتا میں بھی وہاں تو کیا کرتا
 

بات تلوار کی نہیں اس کے جانچ کی ہے

جو اس کے وار سے بچ نکلے تب بھی مرتا

 

انساں آپ کے غرور میں نا سمجھی سے

خدا کہلاتا خود کو نہ ایسے گزرتا
 

غلامی کرتا ہے غیر کی گھوڑے کی طرح

اب اِسکا بس اگر چلتا یہ بھی چرتا

 

ٰخواجہٰ سننا وہ سلام بڑا بھاری ہے

کہا دماغ میں آجاتا نہ دل میں اترتا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

غزل – ٥

 

نادانی سی لگتی تھی وہ خمار سا الگ

ہونے لگا مجھکو بھی ابھی پیار سا الگ

باتوں سے اپنی خوب جو بڑھے چڑھے رہیں

من میں چھُپا ہوا ہے اک اُتار سا الگ

گھائل ہوں تیرے پیارے قدم میٹھے بول سے

کرنا نہ قتل کے لئے سنگھار سا الگ

عقلوں سے جو پیغام ملے دل میں جمع ہیں

لیکن ہے تیرے دل سے جُڑا تار سا الگ

بستی کے وہ دُکھوں کی خبر رکھتا ہے لیکن

خواجہ“ پڑا ہے پاس ہی بیمار سا الگ۔

غزل – ٤

ڈھونڈے کہیں ملتا نہیں کردار و ادب اب
دنیا کو ہے انسان کے جیسوں کی طلب اب

ایماں کی بے خودی بھی وسیلے کا ہو پابند
زاہد بنا رہا ہے کسی غیر کو رب اب

ہیں سانپ گھومتے ہوئے کندھوں پہ لٹکتے
اور چاند پہ یہ تیرتے یاقوت سے لب اب

جو پاس کچھ نہیں تو بھی رُکتا نہیں ہے ہاتھ
بنتا گیا ہے میری غریبی کا سبب اب

خواجہ’ وہ ایک راز گزرے دنوں کا تھا
الزام تجھ پہ لگا ہے تو کھُلا ہے سب اب۔

 

غزل – ٣

 

خودی بیچ کے کیسی یہ استواری

رہے اس سے بہتر طبیعت گنواری

 

سمجھ آئے درد کی جب الٹا ہو سب

کہ تو میں ہو جاؤں تو جائے واری

 

جہاں میں‌ہے کافر سجدے سے نالاں

مہینے کا روزہ جمعہ ہفتہ واری

 

جو دیتا ہے سامان لیتا ہے جاں کو

فلک ہی تو کھیل رہا ہے جواری

 

وہ برسوں رہا ماں کے بل بوتے جیتا

خلاؤں میں چلتی ہے جس کی سواری

 

مچلتا ہے کیسے یہ سر میں ہے سودا

مچلتی ہے اک آرزو ہے کنواری

 

جسے تو سمجھتا رہا عشق خواجہ

طبیب سر کی کیمیائی ناہمواری

 

 

 

غزل – ٢

اجل کا ہاتھ قوّت افلاک اور قلم

یہ رنگ و روپ دنیائے دوروزہ اور ہم

پُوجے ہے کوئے خیر کوئے جھک کے غیر کو

کہتا ہے برہمن بڑا خدا ہے یہ صنم

جاتا ہے کبریائی کا پردہ سرک سرک

آتا ہے میرے وصل کا لمحہ بھی دم بدم

لڑائی کو پر تولتے دل دشمنوں کے ہیں

لیکن مجھے ڈرائیں تیرے گیسوؤں کے خم

باغیچے میں شب “خواجہ” پرندوں کا شور تھا

اُسکی حسین دید کا رکھا ہے کچھ بھرم۔

غزل – ١

رت بدلی دھرتی نیا روپ دھارنے کو ہے
گل کی ہنسی بلبل کا غم اتارنے کو ہے

کلیاں ہیں گویا نازنیں کے لب ملے ہوۓ
پیڑوں کے جھنڈ ہیں گیسو سنوارنے کو ہے

جادو سی اسکی چال میں وہ بحر کا سکوت
آنکھوں کے بیچ بھنور کو سدھارنے کو ہے

ماں سےزیادہ پیار ہے یزداں کو بشر سے
بھالے کو تولے فلک ہمیں مارنے کو ہے

اس پر ہے روک اور مجھے وحشی ڈراتے ہیں
یہ سب مزید شوق کے ابھارنے کو ہے۔

 

 

پراني تحارير »